Ana Parast Novel By Nadia Amin Complete – ZNZ Library

Ana Parast Novel By Nadia Amin Complete – ZNZ Library

Download free web-based Urdu books, free internet perusing, complete in PDF, Ana Parast Novel By Nadia Amin Complete – ZNZ Library – Online Free Download in PDF, Novel Free Download, Online Ana Parast Novel By Nadia Amin Complete – ZNZ Library – Online Free Download in PDF, And All Free internet based Urdu books, books in Urdu, heartfelt Urdu books, You Can Download it on your Portable, PC and Android Cell Phone. In which you can without much of a stretch Read this Book Ana Parast Novel By Nadia Amin Complete – ZNZ Library , We are Giving the PDF document on the grounds that the vast majority of the clients like to peruse the books in PDF, We make an honest effort to make countless Urdu Society, Our site distributes Urdu books of numerous Urdu journalists.

 

Ana Parast Novel By Nadia Amin Complete – ZNZ Library
“تو کیا تم سے اپنا حق لینے کیلیے مجھے ذبردستی کرنا پڑے گی۔”۔وہ اسے چپ مگر بےتاثر انداز میں دیکھتی رہی۔
“جب میں ایسا نہیں چاہتی تو آپ کو کیا تکلیف ہے۔”
“پے مجھے۔تکلیف ہے۔جب میرے ساتھ رہو گی تو میری مانو گی۔”وہ پرسکون سا گویا تھا۔
“میں آپ کو اس قدر ارزاں لگتی ہوں کہ جب جی چاہا پھینک دیا جب جی چاہا استعمال کرلیا۔”وہ بےیقینی سے دیکھتی جیسے شاک میں تھی۔
“یعنی تم ضد کرنے لگی ہو۔انا ہے نا۔”وہ استہزائیہ انداز میں ہنسا اور پھر سختی سے گویا ہوا۔
“انا کی بات بیچ میں لاؤ گی تو پچھتاؤ گی۔میں کیا ہوں اس کا تمہیں اندازہ نہیں۔تم انتقاماً اپنی ضد پہ اڑ گئی ہو۔یہی بات ہے نا۔”وہ سنجیدہ ہوا تھا۔
“ایسا نہیں ہے۔”وہ روہانسے لہجے میں کہتی تڑپ اٹھی تھی۔
تو پھر کیا ہے۔وہ غصے سے دبے دبے لہجے میں دانت چبا کر بولا تھا۔
“میری زندگی اجیرن ہوجائے گی۔میں۔۔آپ کو کیوں نہیں سمجھ آرہی۔اگر فروا نے آپ کو یہاں دیکھا تو مجھے زندہ درگور کردے گی۔”وہ رونے لگی۔
“پھر آنسو۔میں نے کہا تھا نا میں تمہارے ان آنسوؤں سے پگھلنے والا نہیں۔انا کی بات ہے تو پھر ایسا ہی سہی۔میں دیکھتا ہوں تم مجھے کیسے دھتکارتی ہو۔”صبح وہ جلدی اٹھی تھی وہ گہری نیند سورہا تھا۔نہا کر جب وہ باہر نکلی تو اسے سیل پہ بات کرتے ہوئے دیکھا۔وہ ایک سرسری سی نگاہ اس پہ ڈال کر جانے لگی جب اس نے اسے پکارا۔
“ادھر آؤ۔”ناچاہتے ہوئے بھی وہ کچھ قدم چل کر اس کی جانب آئی۔
“یہ سوگ کیوں منارہی ہو۔”پھر اس کے گیلے بالوں میں انگلیاں پھیرنے لگا۔وہ خاموش کھڑی رہی۔جب وہ مزید بےتکلفی دکھانے لگا تو اس نے مڑ کر کہا۔
مجھے کام ہے۔اس کی حرکت پہ وہ مسکراتا رہا۔

 

10 Pages · 2022 · 10.52 MB · Urdu

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *